latest news

Monday, 11 February 2013

انصاف بمقابلہ اجتماعی ضمیر

جس طرح انیس سو تین کے بعد کیپٹن الفرڈ ڈریفس کیس کو فرانس میں اور انیس سو اناسی کے بعد بھٹو کیس کے فیصلے کو پاکستان میں کسی مقدمے میں کوئی بھی وکیل بطور نظیر یا حوالہ پیش کرنا پسند نہیں کرتا کیا افضل گرو کے فیصلے کو کوئی بھی چوٹی کا بھارتی وکیل آئندہ کسی بھی عدالت کے روبرو بطور ایک روشن قانونی حوالے کے پیش کرکے کسی بھی ملزم کے لیے سزائے موت کا مطالبہ پسند کرے گا ؟
انیسویں صدی کی آخری دہائی میں کیپٹن ڈریفس پر یہ الزام تھا کہ اس نے قومی راز جرمنوں کے حوالے کیے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ کام دراصل ایک اور افسر نے کیا تھا جسے بچانے کے لیے فوجی عدالت نے ڈریفس کو عمر قید سنا دی اور جب پانچ برس بعد اصل کہانی سامنے آئی تو ڈریفس کو باعزت فوج میں عہدے سمیت بحال کردیا گیا۔یوں فرانسیسی فوج کے ایک دھڑے کی یہود مخالف ضمیر مطمئن کرنے کی کوشش کو روشن خیال فرانسیسی سماج نے کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کو اس حقیقت کے باوجود سزائے موت سنائی گئی کہ بھٹو براہِ راست نہیں بلکہ بلاواسطہ شریکِ جرم گردانا گیا تھا اور کورٹ کا فیصلہ متفقہ کے بجائے منقسم تھا۔ پھر بھی اس وقت کی جمہوریت مخالف فوجی جنتا کا ضمیر مطمئن کرنے کے لیے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ مگر آج تک اس فیصلے کی پھولی لاش پاکستان کے قومی ضمیر پر بوجھ بنی تیر رہی ہے۔
محمد افضل گرو کو تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے صرف دو دن بعد بلاواسطہ شریکِ جرم دو دیگر ماسٹر مائنڈز ایس اے آر گیلانی اور شوکت گرو اور اس کی بیوی افشاں کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس نے افضل کے قبضے سے پیسے، ایک لیپ ٹاپ اور موبائیل فون بھی دریافت کرلیا مگر انہیں بطور ثبوت سربمہر کرنا بھول گئی۔لیپ ٹاپ میں سوائے وزارتِ داخلہ کے جعلی اجازت ناموں اور پارلیمنٹ میں داخلے کے جعلی پاسز کے عکس کے سوا کچھ نہ نکلا۔ غالباً ملزم نے سب کچھ ڈیلیٹ کردیا تھا سوائے سب سے اہم ثبوت کے۔۔۔
جانے کیوں افضل کو پورے ہندوستان سے اس کی پسند کا وکیل بھی نہ مل سکا۔ سرکار کی طرف سے جو ایک جونئیر وکیل فراہم کیا گیا اس نے بھی اپنے موکل کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور ایک عام سے افضل کے شدت پسندی کی جانب مائل ہونے اور پھر شدت پسندی سے تائب ہونے اور تائب ہونے کے باوجود سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بار بار بہیمانہ سلوک کا نشانہ بننے اور اس سلوک کے باوجود ایک پڑھے لکھے شہری کی طرح زندگی گذارنے کی سنجیدہ کوشش کی داستان پر اوپر سے نیچے تک کسی بھی عدالت نے کان دھرنے کی کوشش نہیں کی۔
جس مقدمے میں انصاف کے تمام تقاضوں کے پورا ہونے پر شک نے دو بھارتی صدور کو افضل گرو کی پھانسی کی توثیق سے باز رکھا ۔وہ توثیق بالاخر تیسرے صدر نے کردی اور یوں سپریم کورٹ کے فیصلے کی یہ سطریں جیت گئیں کہ ’اگرچہ ملزم کے خلاف کوئی براہِ راست ثبوت نہیں۔اس کے باوجود سماج کا اجتماعی ضمیر تب ہی مطمئن ہوگا جب مجرم کو سزائے موت دی جائے۔‘
اب اگر اکیسویں صدی کی عدالتیں بھی انصاف کے تقاضوں سے زیادہ سماج کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں تو پھر قرونِ وسطی کی پاپائی مذہبی عدالتوں نے یورپ میں لاکھوں عورتوں کو چڑیل اور لاکھوں مردوں کو مرتد بنا کر زندہ جلا کے کیا گناہ کیا۔ وہ عدالتیں بھی تو سماج کا اجتماعی ضمیر ہی مطمئن کر رہی تھیں۔
روس اور مشرقی یورپ میں گذشتہ بارہ سو سال میں ہر سو ڈیڑھ سو برس بعد یہودی اقلیتوں کی نسلی صفائی کی کیوں مذمت کی جائے۔ یہ نیک کام بھی تو سماجی اکثریت کا ضمیر مطمئن کرنے کے لئے ہی ہو رہا تھا۔ ریاست گجرات میں جو کچھ ہوا اس سے بھی تو ریاست کی سماجی اکثریت کا دل ٹھنڈا ہوا ہوگا۔
تو پھر قانون کی کتابیں بھی الگ رکھ دیجئے اور ہر مقدمے پر عوامی ریفرینڈم کروایئے۔اکثریت اگر کہہ دے کہ پھانسی دو تو پھانسی دے دو۔صرف اتنے سے کام کے لیے گاؤن پہننے، بھیڑ کے بالوں کی سفید ٹوپی سلوانے ، کٹہرا بنوانے اور قانونی نظائر کی لائبریریاں جمع کرکے سماعت در سماعت کا تکلف کیوں ؟

افضل گورو کی پھانسی کے بعد کشمیر میں کرفیو





افضل گرو کو بھارتی پارلیمان پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا
بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم محمد افضل گورو کو سنیچر کی صبح دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔
بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور سیکرٹری داخلہ نے افضل گورو کی پھانسی کی تصدیق کی ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی قصبے سوپور سے تعلق رکھنے والے افضل گورو کی پھانسی کے بعد کشمیر میں حفاظتی اقدام کے تحت کرفیو لگا دیا گیا ہے اور وادی کے اہم شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
پچاس سالہ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا اور دس برس سے زائد عرصہ پہلے دسمبر دو ہزار دو میں انہیں اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر 20 اکتوبر 2006 کو اس سزا پر عملدرآمد ہونا تھا لیکن ان کی اہلیہ کی جانب سے صدر سے رحم کی اپیل پر یہ معاملہ زیرِ التوا تھا۔ انہیں اب پھانسی دینے کا فیصلہ بھارت کے صدر پرنب مکھرجی کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد کرنے کے بعد کیا گیا۔

افضل گورو کے کیس میں کب کیا ہوا؟

  • تیرہ دسمبر دو ہزار ایک: پانچ شدت پسندوں نے دلی میں پارلیمان پر خونریز حملہ کیا۔ پانچوں حملہ آوروں کے علاوہ نو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔
  • پندرہ دسمبر دو ہزار ایک: پولیس نے حملے کی سازش رچنے کے الزام میں افضل گورو کو گرفتار کیا۔ ان پر شدت پسند تنظیم جیش محمد سے وابستگی کا الزام تھا۔ اسی سلسلےمیں دلی یونیورسٹی کے ایک لیکچرر ایس اے آر گیلانی کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
  • چار جون دو ہزار دو: چار ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد۔ ملزمان میں افضل گورو کے علاوہ گیلانی، شوکت گورو اور ان کی اہلیہ افشاں گورو بھی شامل۔
  • اٹھارہ دسمبر دو ہزار دو: دلی کی ایک عدالت نے پارلیمان پر حملے کے صرف ایک سال کے اندر افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی۔ گیلانی اور شوکت حسین گورو کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔
  • انتیس اکتوبر دو ہزار تین: دلی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی۔ لیکن مسٹر گیلانی کو رہا کر دیا گیا۔
  • چار اگست دو ہزار پانچ: سپریم کورٹ نے افضل گورو کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو صحیح قرار دیا لیکن شوکت گورو کی موت کی سزا کم کرکے دس سال قید میں تبدیل کر دی گئی۔
  • بیس اکتوبر دو ہزار چھ: اس تاریخ کو افضل گورو کی سزا پر عمل ہونا تھا اور تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں، لیکن اسی دوران ان کی اہلیہ نے صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کی جس کی وجہ سے سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا۔
  • بارہ جنوری دو ہزار سات: سپریم کورٹ نے افضل گورو کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
  • تیس دسمبر دو ہزار دس: شوکت حسین گورو کی سزا پوری، انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔
  • دس دسمبر دو ہزار بارہ: وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ وہ پارلیمان کے سرمائی اجلاس کے بعد افضل گورو کے کیس پر غور کریں گے۔
  • تین فروری دو ہزار تیرہ: صدر جمہوریہ نے رحم کی اپیل مسترد کردی۔
  • نو فروری دو ہزار تیرہ: افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے بعد وہیں دفن کردیا گیا۔
محمد افضل گورو دِلی کی تہاڑ جیل کے مخصوص وارڈ میں قید تھے اور پھانسی کے بعد انہیں جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا ہے۔
ادھر افضل گورو کے لواحقین نے بھارتی صدر اور وزیرداخلہ سے درخواست کی ہے کہ افضل کی میت ان کے سپرد کی جائے۔
افضل کے بھائی محمد یٰسین گورو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک وحشیانہ حرکت ہے کہ پھانسی کی سزا دی گئی اور ہمیں خبر بھی نہیں کی گئی۔ لیکن اب ہمیں ماتم کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ ہمارے گاؤں کو فوجی چھاونی بنادیا گیا ہے۔‘
یٰسین گورو کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی پولیس حکام کی مدد سے بھارت کے صدر اور وزیرداخلہ سے افضل کی میت کی واپسی کے لیے درخواست دی ہے۔
ادھر افضل گورو کی پھانسی پر کشمیر کے مختلف علاقوں سے احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔ پھانسی کی خبر پھیلتے ہی کشمیر میں کشیدگی پھیل گئی اور جگہ جگہ لوگوں نے مظاہرے کیے۔
افضل کے آبائی قصبے سوپور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس کی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے اس واقعے پر تین روز تک ہڑتال کی کال دی ہے جبکہ حکام نے انہیں نئی دلّی میں حراست میں لیا ہے جبکہ کشمیر میں شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان اور جاوید احمد میر سمیت کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
کشمیر میں کرفیو اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ سری نگر اور بڑے قصبوں میں بھاری تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
سوپور کے شہریوں نے بتایا ہے کہ افضل کے لواحقین اور مقامی باشندوں نے ان کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا ہے جس کے لیے انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔
دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملہ حالیہ بھارتی تاریخ کے متنازع ترین واقعات میں سے تھا۔
13 دسمبر 2001 کو دہلی میں پانچ شدت پسندوں نے بھارتی پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں ایک مالی اور آٹھ پولیس اہل کار مارے گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پانچوں حملہ آوروں کو ہلاک کر ڈالا تھا۔
بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستانی عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد پر لگایا تھا اور کہا کہ اسے پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔
پاکستان نے اس کی تردید کی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس حد تک خراب ہو گئے کہ سرحدوں پر دس لاکھ کے قریب فوجی تعینات کر دیے گئے تھے۔

اجمل قصاب کو پھانسی، دفنا بھی دیا گیا



چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں ہونے والے شدت پسندی کے حملوں کے مجرم پاکستانی شہری اجمل قصاب کو بدھ کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔
بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے اجمل قصاب کو پھانسی دیے جانے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا  
اطلاعات کے مطابق چونکہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اجمل قصاب کی لاش کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اس لیے ان کی لاش کو پونے کی يروڈا جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا ہے۔
سشیل کمار شنڈے کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اجمل قصاب کی رحم کی درخواست کی فائل سولہ اکتوبر کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے پاس بھیج دی تھی اور صدر نے قصاب کی رحم کی درخواست کو مسترد کرنے سے متعلق فائل پانچ نومبر کو وزارت داخلہ کو بھیج دی تھی۔
شنڈے نے بتایا کہ اس فائل پر انہوں نے سات نومبر کو دستخط کرنے کے بعد اسے آٹھ نومبر کو مہاراشٹر حکومت کے پاس بھیج دی تھی۔ان کے مطابق آٹھ نومبر کو ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ قصاب کو اکیس نومبر کو پونے کی يروڈا جیل میں پھانسی دی جائے گی۔
شنڈے نے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے کو خفیہ رکھا کیوں کہ اسے خفیہ رکھنا ضروری تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اجمل قصاب کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔ بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کو اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں پہلے سے ہی اطلاع بھیج دی گئی تھی۔
اس سے قبل بھارت کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی جانب سے لاش کی مطالبہ کیا جاتا تو وہ اجمل کی لاش انھیں سونپ دے گا۔اس بارے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے سے جب پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’اگر پاکستان کی حکومت قصاب کی لاش کا مطالبہ کرتی ہے تو ہم انہیں لاش سونپ دیں گے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل ممبئی حملوں کے دوران پاکستان نے مارے جانے والے نو مبینہ شدت پسندوں کی لاشیں لینے سے انکار کردیا تھا اور کئی دنوں کے انتظار کے بعد بھارتی حکومت نے انہیں بھارت میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔
شنڈے کے مطابق پاکستان کو قصاب کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ہ پاکستان نے سرکاری طور پراس بارے میں بھیجا گیا خط قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد انہیں فیکس کے ذریعے اطلاع بھیجی گئی تھی۔
"ہم نے اس معاملے کو خفیہ رکھا کیوں کہ اسے خفیہ رکھنا ضروری تھا۔"
وزیرِ داخلہ شندے
دلی سے ہمارے نامہ نگار سنجوئے ماجومدار کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اوپر دباؤ تھا کہ وہ اس شخص کو سزا دے جس نے ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک کا ارتکاب کیا تھا۔
لیکن یہ تمام معاملہ جس سرعت اور رازداری سے نمٹایا گیا وہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا ہے۔
اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی تھی۔پاٹل کے مطابق اجمل قصاب کو انیس نومبر کو ممبئی کے آرتھر روڈ جیل سے پونے کی يروڈا جیل لایا گیا تھا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نائب ہائی کمشنر نے پاکستان کو قصاب کی پھانسی کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے، اور پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کر رہا ہے۔
بھارتی صدر نے مہاراشٹر کی وزارتِ داخلہ سے رحم کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے تقریبا دو ماہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔
سنہ دوہزار آٹھ میں نومبر کی چھبیس تاریخ کو قصاب اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ سمندر کے راستے ممبئی آیا تھا۔ ان لوگوں نے شیواجی ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل اور ایک یہودی ثقافتی مرکز سمیت شہر کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا، جس سے کل166 افراد مارے